Skip to main content


شاہ صاحب مجھے آپ سے محبت ہے۔ حسبِ معمول آج دفتر میں بیٹھے اپنے کیبن کے درمیاں لگی شیشے کی دیوار سے جانک کر جب یہ الفاظ از راہِ مذاق ادا کیے تو شاہ جی حسب عادت میری طرف دیکھے بغیر اپنے کانوں کو ایک خاص زاویے میں لا کر بولے کہ کیا کہا میاں ! ذرا دوبارہ بیان کیجیئے گا۔ یہاں بتاتا چلوں کہ شاہ جی ایک سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں جو ہمارے ادارے کی مختلف سرگرمیوں کی میڈیا کوریج کرتے ہیں اور صحافی بھی ہیں۔ اکژ ان سے کئی مضوعات پر بحث و مباثہ ہو جایا کرتا ہے۔ ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ جب ان کے کہنے پر میں نے اپنے الفاظ دوراہے تو یک دم اٹھے اور میرے کیبن میں آ کر بیٹھ گئے اور ماہر صحافی کی طرح سوال پوچھنا شروع ہو گئے کہ آپ کو ایسا کیوں لگا کہ آپ مجھ سے محبت کرنے لگے ہیں اور یہ احساس کب سے آپکو ہو رہا ہے اور کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپکو مجھ سے محبت ہو گئی ہے۔ 

کہیں سوچوں میں گم میں نے جواب دیا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ مجھے آپ کی عادت سی ہو گئی ہے۔ ہر وقت آپکا خیال ستاتا رہتا ہے اور کسی پل چین نہیں آ رہا، دن با دن یہ کفیت بڑھتی جا رہی ہے اور لاکھ چاہا کر بھی نہیں قابو کر سکتا خود کو۔ شاہ صاحب شاہد سمجھ گئے میرے دل کی کفیت کہ یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ اس لیے توکنا مناسب نہیں سمجھا۔ میں کافی کچھ بولتا رہا، اور آخر میں وہی ایک سوال جس کی جستجو آج کل مجھے شدت سے ستا رہی ہے کہ شاہ صاحب یہ بتایئے کہ عادت اور محبت میں کیا فرق ہے، کیا عادت ہی محبت ہے یا دونوں الگ الگ چزیں ہیں۔ انکا جواب کچھ ایسا تھا کہ؛ 

"عادت اور محبت دونوں مختلف چزیں ہیں اور ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ عادت میں یکتائی نہیں ہوتی، مطلب عادت ہمیشہ جمع ہوتی ہے واحد نہیں۔ ایک انسان میں ایک سے ذیادہ عادتیں پائی جاتی ہیں باشمول اچھی اور بری، کوئی بھی ایسا انسان نہیں جس میں صرف ایک عادت ایک وقت میں پائی جاتی ہو، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عادت بدل جاتی ہے، چھوڑی جا سکتی ہے آسانی سے، جب کہ محبت، محبت واحد ہوتی ہے، وہ ایک وقت میں صرف ایک انسان سے ہی ہوتی ہے، اس میں دوسرا کوئی شریک نہیں ہوتا۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ محبت زندگی میں صرف ایک بار ہوتی ہے، یہ سرا سر غلط ہے، محبت بار بار ہو سکتی ہے مگر ایک وقت میں ایک سے ہی ہوتی ہے۔ 

دو تین دن پہلے اپنے ایک سکول کے زمانے کے استادِ محترم سے بھی اسی مضوع پر بات چیت چل نکلی، انکا کہنا ہے کہ عادت محبت کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے، عادت ہی مستقبل میں محبت میں بدل جاتی ہے، اس پر وہ ایک افسانہ بھی لکھ چکے جو کہ پڑھا میں نے۔ 

گزشتہ رات کچھ بے چینی سی تھی اور لاکھ کوشش کے باوجود بھی جب نیند نہیں آئی تو رات کے پہلے پہر اٹھ کر میں باہر سحن میں شال لے کر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ آخر کیا فرق ہے عادت اور محبت میں، بہت سے خیالات کا تانہ بانہ بنتا رہا جن میں سے کچھ آپ کے گوش گزار کر رہا ہوں؛ 

" جب ہم کسی کو پسند کرنے لگ جاتے ہیں تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اس سے بات کی جائے، جب بات کرتے ہیں تو آہستہ آہستہ ہمیں اسکی عادت سی ہو جاتی ہے، اس پہ پیار آنا شروع ہو جاتا ہے اور یہ درجہ پہلا ہوتا ہے ہمارا محبت کی جانب، اور اس کے بعد مقام آتا ہے عشق کا، اس کے بھی دو درجے ہیں جو کہ آپ سب جانتے ہی ہوں گئے۔ عشق تک ہر کوئی نہیں پہنچ سکتا، کیوں کہ یہ جنوں کا دوسرا نام ہوتا ہے جہاں اپنی ذات کی نفی کر کے انسان محبوب کی ذات میں گم ہو جاتا ہے اور یہ انتہاء ہوتی ہے۔ محبت میں گنجائش ہوتی ہے، مگر عشق کا معاملہ مختلف ہے، اس میں کسی قسم کی گنجائش نہیں پائی جاتی۔ 

اگر مزید دیکھا جائے تو عادت ، پیار انسان سب سی ہی کرتا ہے اور نبھاتا بھی ہے کیوں کی انسانی دل میں رحم کی صفت پیدا کی گئی ہے جو اسے باقی مخلوق سے الگ کرتی ہے، مگر محبت سب سے نہیں ہوتی، کئی لوگوں سے ہو سکتی ہے مگر وقت کی قید ہے اس میں۔ اور عشق، عشق صرف ایک سے ہی ہوتا ہے، اس کی موجودگی میں بھی اور غیر موجودگی میں بھی، اس کو پا کر بھی اور اس کو کھو کر بھی، کیوں کہ اس جزبے کا تعلق جنون سے ہے اور جنوں کسی کو پانے اور کھونے کی قید سے ماوارہ ہوتا ہے۔ 

کسی شاعر کی زبانی کچھ یوں بیاں ہے؛ 

اسے کہو کہ بہت نہ مراد سے ہیں جنوں 

اسے کہو کہ مجھے ہے بہت جنوں اسکا۔۔۔۔ 



محبت میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب وہ اپنی انتہاء کو پہنچ جاتی ہے، وہ پاگلوں کی طرح اپنا ٹھاکنا تلاش کرتی ہے، کھبی چہروں میں، کبھی لفظوں میں، کھبی ویرانوں میں کھبی رستوں میں، کیوں کہ وہ تکمیل چاہتی ہے، یہ وہ وقت ہوتا ہے جب یہ جزبہ عروج پر ہوتا ہے جیسے کوئی نشے کا عادی ہو جائے، بے چینی، بے قراری اور اضظراب معموال بن جاتا ہے، وہ پاگلوں کی طرح اپنے محبوب کو ڈھونڈننا چاہتا ہے اور اس اپنی ذات کا وہ حصہ جو اس نے سب سے چھپا کر رکھا ہوتا ہے، وہ عیاں ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اور جب اس بے قراری کو منزل نہیں ملتی تو بقول کسی شاعر کے پھر کچھ یوں بیان ہوتی ہے؛ 



یہ مٹی کے گھروندوں کے جیسی، 

یہ برف کے پہاڑ کے جیسی، 

حیقیت کی تپش سے آہستہ آہستہ پگلنے لگتی ہے، 

کسی مزار پر جلنے والے دیے کی مانند یہ جلتی ہے، 

دل کے کسی کونے میں روشنی بن کر جھلملاتی رہتی ہے، 

مگر یہ خود نہیں مرتی، ہاں یہ مار دیتی ہے 

جو پھر سے سامنے آئے، 

یہ دفن ایک لاش کی جیسے، 

روزِ محشر میں دوبارہ اتھنے کی طرح تیار رہتی ہے، 

مگر تم نادان ہو نہیں سمجھ پاتے، 

کیوں کہ یہ جو محبت ہے، 

یہ اسکی پرانی عادت ہے، 

یہ خود نہیں مرتی، 

مگر یہ مار دیتی ہے، 

مگر یہ مار دیتی ہے۔۔۔

یہ کچھ میرے خیلات تھے، آپ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں، اگر آپ کے پاس کوئی جواب ہو عادت اور محبت کا تو ضرور آگاہ کیجیئے گا، جس کے لیے میں انتہائی مشکور رہوں گا۔ آپ اپنا جواب نہچے دییے گئے ای میل پر ارسال کر سکتے پیں؛ 

alajaal83@gmail.com 



ازقلم خود، 

ںعیم قیصر۔۔۔

Comments